کاروار:7؍ اکتوبر(ایس اؤ نیوز) اترکنڑا ضلع میں 1971سے پہلے فوریسٹ زمین کو اتی کرم کرتےہوئے کھیتی باڑی کرنےو الوں کی زمین سکرم کرنے کے متعلق دوبارہ اقدامات کئے جانےکی جانکاری موصول ہوئی ہے۔ ذرائع نے خبر دی ہے کہ 1271662ہیکڑ زمین کی فوریسٹ تحویل ختم کرنےکےلئے افسران حکومت کو پیش کش ارسال کرنےکی تیاری میں ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ فوریسٹ تحویل ختم کرنےکےسلسلےمیں فوریسٹ محکمہ اور روینیو محکمہ کےافسران نے مشترکہ سروے کا کام مکمل کرلیا ہےں۔ ضلع میں فوریسٹ قانون (1971) نافذ ہونے سے پہلے کل 2421خاندان فوریسٹ زمین کو اتی کرم کرتےہوئے زراعت کےلئے استعمال کررہے تھے۔ ان کسانوں کی زمین کو سکرم کرنےکا مطالبہ پچھلےکئی دہوں سے کیا جارہاہے۔ دسیوں برس پہلے ریاست کی جانب سے مرکزی حکومت کو اس سلسلےمیں درخواست کی گئی تھی تو مرکزی حکومت نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔ البتہ کئی سال بیت گئے اس تعلق سے حکومت نے اعلامیہ جاری نہیں کیا ہے۔
کیامسائل ہیں؟: فوریسٹ کی اتی کرم زمین پر مقیم لوگ زراعت شروع کرنے کے بعدد تین نسلیں گزر چکی ہیں، کئی لوگوں کے نام پر زمین منظور کی گئی ہے، لیکن پٹہ کاغذ کےایک کالم میں ’ محکمہ فوریسٹ‘ کا حوالہ باقی رہنے سےمسئلہ پیدا ہورہاہے۔ ایسی زمینات کے مالکان کو سرکاری سہولیات سےمستفید ہونا، تقسیم کرنا ، لین دین کرناممکن نہیں ہوپارہاہے ، اسی وجہ سے عرضی دار بیزار ہیں۔
دیری کس بات کی؟:فوریسٹ اتی کرم زمین کو سکرم کےمتعلق کئی عرضیاں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ اس سلسلےمیں فوریسٹ افسران کا کہنا ہے کہ فوریسٹ تحویل ختم کرنے کےلئے عدالت کی منظوری چاہئے، اسی وجہ سے تحویل کو ختم کرنے میں دیر ی ہورہی ہے۔
دوسری مرتبہ کی کوشش :1971سے پہلے کی فوریسٹ اتی کرم زمین کو سکرم کرنےکی سلسلےمیں ضلع کی طرف سے دو مرتبہ پیش کش ارسال کی جاچکی ہیں، لیکن اس میں کامیابی نہیں ملی ہے۔ سال 2008سے 2010تک کی مدت میں دومرتبہ سروے کرنےکے بعد ریاستی حکومت کو پیش کش بھیجی گئی تھی ۔ لیکن متعلقہ فائل ودھان سبھا میں ہی دھول چاٹ رہی ہے۔ مسئلہ کی جڑ تک پہنچ کر واقفیت حاصل کرنےکے بعد ضلع نگراں کار وزیر شیو رام ہیبار نے اس طرف توجہ دی ہے۔ اور ایک مرتبہ فوریسٹ تحویل ختم کرنے کےلئے پیش کش ارسال کرنے ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی ہے۔پتہ چلا ہے کہ اس سلسلےمیں افسران متحرک ہوکر تیاری کرنےمیں مصروف ہیں۔